• نصابِ تعلیم میں مذہبی شدت پسندی

    پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مسخ شدہ تاریخ تو پڑھائی ہی جاتی ہی، اس کے ساتھ ہی دین کی تعلیم بھی اس طریقے سے دی جاتی ہے کہ وہ تعلیم سے زیادہ تبلیغ لگتی ہی۔ اکثر اساتذہ کرام تعلیم کو ایک تبلیغی پیشہ سمجھ کر اپنے مذہبی مسالک کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ سائنسی علوم کی مسلسل نفی کرنے سے ہم صرف جدید دنیا سے ہی کنارہ کش نہیں ہوئے بلکہ تباہی کے دہانے پربھی پہنچ چکے ہیں ۔ ریاست نے عسکری نقطۂ نظر سے صرف اسلحے کا ڈھیر ہی نہیں لگایابلکہ ہندوئوں کے لیے نفرت کے جذبات کو بھی بڑھاوا دیاہے جس کے باعث بہت سے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔

  • کالا قانون – حصہ اوّل – اہم تاریخی پہلو اور مقدمات

    · ضیاء الحق کے 1980 کے دور سے لے کر اب تک ، اس قانون کے تحت حراست میں لئے گیے 32 ایسے افراد کو جیل یا کورٹ کے باہر غیر قانونی طور پر مار دیا گیا، حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہ ہوا تھا اور یا تو انکا مقدمہ ابھی زیر سنوائی تھا یا انکو عدالت بری کر چکی تھے.

    · کم سے کم 2 ایسے ججوں کو بھی قتل کیا جا چکا ہے جنھوں نے اس قانون کے تحت حراست میں لئے گئے افراد کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کیا ہو.

  • حجاب کا نقطہ آغاز

    خواتین کے لئے اس شہر میں زندگی دوبارہ کبھی محفوظ نہ ہو سکی. اگر وقت کا دھارا موڑنا ممکن ہوتا تو شائد مدینہ کی حیثیت خواتین کے لئے ایک ظالم شہر کی سی نہ ہوتی مگرافسوس یہ صرف فسانہ ہی ہو سکتا ہے. تب سے یہ خواتین کا مقدار ٹھہرا ہے کہ غیر محفوظ شہروں کی گلیوں میں انھیں نہایت احتیاط سے کالے جلباب میں ملبوس گھومنا پڑتا ہے. پردہ، جسکا اصل مقصد انکی حفاظت کرنا تھا، ایک ایسی ضروری روایت بن گیا ہے جو کہ انکے ساتھ کئی صدیوں تک رہے گی، چاہے حالت محفوظ ہوں یا نہیں.

  • سائنس اور وسوسہ

    اگر نیوٹن نےاشیا کی حرکت اور انکے زمین کی طرف گرنے کو اس با ترتیب کائنات کے خلقی قوانین کے بجاے ایک الوہی موجودگی سے جوڑا ہوتا، تو ہم میکانیات کے بنیادی نظریات بھی نہ بنا سکتے اور “موسیقار سے بنیاد پرست” بننے والے لاکھوں ڈالر مالیت کی ایس-یو-وی میں سفر کر کے تبلیغ کرنے نہ جا سکتے. حتیٰ کہ کوئی بنیاد پرست موٹر گاڑی نہ چلا سکتا، جہاز کا سفر نہ کر سکتا، نہ ہی ان جہازوں اور گاڑیوں کو امارات سے ٹکرا سکتا کیونکہ کوئی گاڑیاں یا جہاز ہوتے ہی نہ.

  • اسلام بمقابلہ سائنس

    اسلامی کانفرنس تنظیم OIC ممبر اقوام کی تقریباً 1800 یونیورسٹیوں میں سے صرف 312 تحقیقی جریدے یا جرنل آرٹیکل شائع کرتی ہیں، اور ان میں سے کوئی یونیورسٹی بھی دنیا کی 500 بہترین یونیورسٹیوں میں شمار نہیں ہوتی. – دیکھئے شنگھائی یاؤ تونگ یونیورسٹی کی رپورٹ.

سیلاب زدگان ایک اونچے ٹیلے پر جما ہیں. ہیلی کاپٹر سے امدادی سامان گرایا جا رہا ہے.

سیلاب کے بعد

پاکستان کے سیلاب نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کردیا ہے، بلکہ وہ لوگ اب ملکی، علاقائی اور عالمی برادری کے لیے
Aug 14, 2010 | 2 comments | View Post
مسلم تاریخ میں اقلیتوں کے حقوق

مسلم تاریخ میں اقلیتوں کے حقوق

پاکستان ہو یا دور حاضر کا کوئی بھی مسلمان اکثریتی ملک، کہیں بھی اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں. آئے روز شدّت پسند اقلیتوں
Jul 29, 2010 | 12 comments | View Post
پاکستان کے دفاعی اداروں میں جہادیوں کا اثر و رسوخ

پاکستان کے دفاعی اداروں میں جہادیوں کا اثر و رسوخ

یہ پوسٹ جولائی ٢٠١٠ میں ڈان نیوز سے نشر ہونے والے پروگرام رپورٹر کی دوسری قسط پر مبنی ہے. پروگرام کی ریکارڈنگ اور اہم نقاط
Jul 29, 2010 | 6 comments | View Post
محمّد علی جناح

جناح کی اپنی قوم کے نام وصیت

نصرت پاشا اس قوم کے لیے ابھی امید باقی ہے اگر یہ جناح کی وصیت کی طرف لوٹ جانے میں کامیاب ہو جائے : ١. مذہب
Feb 07, 2010 | 9 comments | View Post
  • سیاست اور حالات حاضرہ

  • پاکستان میں پڑھائی جانے والی سائنس کی کتاب کا عکس

    نصابِ تعلیم میں مذہبی شدت پسندی

    پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مسخ شدہ تاریخ تو پڑھائی ہی جاتی ہی، اس کے ساتھ ہی دین کی تعلیم بھی اس طریقے سے دی جاتی ہے کہ وہ تعلیم سے زیادہ تبلیغ لگتی ہی۔ اکثر اساتذہ کرام تعلیم کو

    May 03, 2012 | 0 comments | View Post

  • شیریں عبادی

    ایران جاگ رہا ہے – شیریں عبادی کی سوانح عمری

    . اگریہ کرنے کے لئے مجھے اسلامی قوانین کی بھاری بھرکم کتب کو کھنگالنا پڑتا ہے، یا ایسے مذھبی ذریعوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اسلام کے درس اخلاقیات اور عقیدہ مساوات انسانی پر زور دیتے ہیں، تو میں

    Jan 17, 2011 | 1 comment | View Post

  • معاشرہ اور معاشرتی مسائل

  • سیلاب زدگان ایک اونچے ٹیلے پر جما ہیں. ہیلی کاپٹر سے امدادی سامان گرایا جا رہا ہے.

    سیلاب کے بعد

    پاکستان کے سیلاب نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کردیا ہے، بلکہ وہ لوگ اب ملکی، علاقائی اور عالمی برادری کے لیے قومی سلامتی کا چیلنج بن گئے ہیں.۔ کوئی اس مصیبت سے آنے والی تباہی کو

    Aug 14, 2010 | 2 comments | View Post

  • تہذیبی نرگسیت

    تہذیبی نرگسیت کی علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقے

    تہذیبی نرگسیت ایک نفسیاتی مرض ہے جو ملک عزیز کے طول و عرض میں انتہائی سرعت سے پھیل رہا ہے. عموماً متوسط طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانان اور درمیانی عمر کے اشخاص اس کا شکار بنتے ہیں. تہذیبی نرگسیت کا

    Aug 04, 2010 | 10 comments | View Post

  • فلسفہ اور تاریخ

  • بارہویں صدی کا ایک عربی خاکہ جو کہ انسانی آنکھ کو بیان کرتا ہے.

    مسلمانوں کا سنہری دور

    قدیم اور جدید سائنس میں صرف ایک موثر ربط ہے اور وہ عربوں کی وجہ سے ہے. یورپ کی سائنسی تاریخ میں تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ دور تاریکی کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس دور میں

    Oct 22, 2010 | 2 comments | View Post

  • عشق، محبت اور وفا کی علامت – انارکلی

    عشق، محبت اور وفا کی علامت – انارکلی

    حیقیقت خواہ کوئی بھی ہو۔ انارکلی اور شہزادہ سلیم کے عشق کا قصہ محض فرضی داستان تھا یا نہیں۔ مقبرہ انارکلی میں قبر انارکلی کی ہی ہے یا نہیں۔ اس تمام امور سے قطع نظر ادب و ثقافت پر اس

    Oct 17, 2010 | 4 comments | View Post

  • سائنس و ٹیکنولو جی

  • اگر ڈی-این-اے کا استمال پدریت معلوم کرنے اور ملزموں کو تلاش کرنے میں کیا جا سکتا ہے، تو نظریہ ارتقا کو سبط کرنے کیلئے کیوں نہیں ؟

    سائنس اور وسوسہ

    اگر نیوٹن نےاشیا کی حرکت اور انکے زمین کی طرف گرنے کو اس با ترتیب کائنات کے خلقی قوانین کے بجاے ایک الوہی موجودگی سے جوڑا ہوتا، تو ہم میکانیات کے بنیادی نظریات بھی نہ بنا سکتے اور "موسیقار سے

    Oct 11, 2010 | 4 comments | View Post

  • آسان سائنس – کڑی 3 – سائنٹفک میتھڈ کا بنیادی جائزہ

    آسان سائنس – کڑی 3 – سائنٹفک میتھڈ کا بنیادی جائزہ

    سائنٹفک میتھڈ تجربہ کرنے کا ایک عمل ہے جسکو مشاہدات کو کھوجنے اور جوابات تلاش کرنے کے لئے استمال کیا جاتا ہے. سائنسدان اسکو قدرت کے عوامل میں وجوہات اور اثرات کا تعلق جاننے کے لئے استمال کرتے ہیں.

    Oct 09, 2010 | 3 comments | View Post

  • ثقافت ، ادب اور فنون لطیفہ

  • امرتا پریتم

    اج آکھاں وارث شاہ نوں

    امرتا پریتم ایک بھارتی شاعرہ اور ناول نگار تھیں۔ گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔

    Oct 24, 2010 | 1 comment | View Post

  • جرمن ادیبہ ہیرٹا مُلر

    جرمن ادیبہ ہیرٹا مُلر

    باغیانہ افکار اور آزادی اظہار کی ترجمان نوبل انعام برائے ادب 2009ئ حاصل کرنے والی جرمن ادیبہ ہیرٹا ملر

    Oct 04, 2010 | 6 comments | View Post

  • مزید حالیہ تحاریر

  • کچھ لوگ تو پردے کے حق میں اس حد میں دلائل ڈھونڈتے ہوے اس حد تک بے ہودگی پر اتر جاتے ہیں کہ بے ڈھنگ مثالوں کا سہارا لیتے ہیں جیسے کہ یہ پوسٹر جو کچھ دیر سے انٹرنیٹ پر کافی مقبول ہے.

    عورت اور پردہ

    جب ان منافیقین سے رسول نے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے بہانہ بنایا کہ ہم اتو یہ سمجھے تھے کہ یہ عورتیں لونڈیاں ہیں. اس آیت میں الله نے ایک تدبیر بتایی کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو ‘جلباب’ اوڑھ لیا کریں تا کہ وہ پہچانی جا سکیں اور منافیقین کہ پاس انہیں تنگ کرنے کا کوئی بہانہ نہ رہے. یہاں یہ بات واضح ہے کہ یہ آیت صرف ایک خاص وقت اور موقع کے لئے تھی اور یہ حکم تمام زمانوں کے لئے نہیں تھا.

    Oct 15, 2010 | 6 comments | یہ تحریر پڑھیے

  • شدت پسندی کا مرکز : پاکستان یا سعودی عرب ؟

    شدت پسندی کا مرکز : پاکستان یا سعودی عرب ؟

    اسلامی شدت پسندی کے اس مرکز کو اسکے موجودہ قرون وسطی کی ریاستی ڈھانچے سے بدل کر ایک پارلیمانی اور جمہوری ماڈل پر لانے کی ضرورت ہے. اگر مغربی ممالک سنجیدگی سے اس مسلے کا حل چاہتے ہیں تو انکو پاکستان پر اندھی نقطہ چینی چھوڑ کر سعودی عرب کی طرف نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے اور اسکو اس سیاسی اور ریاستی تبدیلی کے عمل میں مدد کرنی چاہیے.سعودی پادشاہت کو محض علامتی بنا دینا چاہیے اور ریاستی اقتدار ایک نمائندہ قانون ساز جماعت کو منتقل کر دینا چاہیے. شاید ملایشیا کا پارلیمانی ماڈل یہاں بھی چل سکے. یہ تاثر کہ اگر سعود گھرانے سے اقتدار چھینا گیا تو ایک مزید بنیاد پرست اسلامی نظام سامنے آ جاۓ گا بلکل غلط اور بے بنیاد ہے.

    Oct 08, 2010 | 15 comments | یہ تحریر پڑھیے

  • کیا ایک اسلامی ریاست کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر انسانوں کے ایک شہر میں آنے پر پابندی لگاے ؟

    اسلامی ریاست، خواب یا حقیقت؟

    سیکولر ازم کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں ہر شہری کے ساتھ بلا امتیاز مذہب و ملت یکساں سلوک کیا جائے گا۔

    Oct 01, 2010 | 7 comments | یہ تحریر پڑھیے

  • سیکولرازم اور لادینی نظام

    سیکولرازم اور لادینی نظام

    سیکولرازم اور لادینی نظام
    منوبھائی

    محض اتفاق کی بات بھی ہوسکتی ہے اور اسے وقت اور عہد کا لازمی سیاسی تقاضا بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اپنے نوزائیدہ ملک کو ایک ایسا معاشرہ فراہم کرنا چاہتے تھے جن کے معاملات سیاست، معیشت اور معاشرت مذہبی امتیازات اور [...]

    Sep 23, 2010 | 7 comments | یہ تحریر پڑھیے

  • فرحت ہاشمی ایک ٹیوی پروگرام میں

    طبقہ امرا کی خواتین میں مقبول الہدی

    برطانیہ میں پلنے والی 25 سالہ بشریٰ کو یہ اشتیاق ہوا کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں کچھ زیادہ جانے، لیکن اسے نہ اردو آتی تھی نہ عربی۔ سو اس مقصد کے لیے اس نے ایک اسلامک انسٹی ٹیوٹ میںداخلہ لے لیا۔ اس نے بتایا کہ زبان ایک بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن نصاب بھی بہت مشکل تھا۔ کیونکہ یہ ان لوگوں نے مرتب کیا تھا جو کہ اسلام کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔ جب میں نے انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا تو مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں اپنا یہ شوق پورا نہ کر سکوں۔ بالآخر میں نے وہ انسٹی ٹیوٹ چھوڑ دیا۔

    Sep 22, 2010 | 1 comment | یہ تحریر پڑھیے

  • بُرے صوفی

    بُرے صوفی

    بُرے صوفی
    روزنامہ ڈان کے لئے قلندر بخش میمن کی تحریر
    انگریزی سے اردو ترجمہ : علی محسن

    عمومی رائے یہ ہے کہ صوفی ازم وہابیت کا متضادہے۔ غلط ۔دراصل صوفی ازم اور وہابیت میں ایک اہم قدرمشترک ہے۔ یہ دونوں نظام کو برقرار رکھنے والے نظریات ہیں۔ پاکستان میں صوفی ازم عدم مساوات اور افلاس جیسی [...]

    Aug 29, 2010 | 7 comments | یہ تحریر پڑھیے

  • اورحان پاموک

    نوبل انعام یافتہ ادیب اورحان پاموک

    اپنی ذات کا متلاشی ادیب….
    ترکی کے نوبل انعام یافتہ ادیب اورحان پاموک کا زندگی نامہ
    شیراز حسن

    اورحان پاموک کہتے ہیں کہ ”بہت چھوٹی عمر سے ہی میرے ذہن میں ایک خیال نے جنم لیا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں میری دنیا اس سے بڑھ کر ہے۔ استنبول کی گلیوں میں کہیں، میرے گھر سے ملتا [...]

    Aug 27, 2010 | 1 comment | یہ تحریر پڑھیے

  • دہشت گردی اور نفسیات

    دہشت گردی ، نفسیات کے تناظر میں

    کتابیں اور متعدد تحقیقی مقالہ جات شائع ہو چکے ہیں۔ آج کل وہ ایم اے او کالج لاہور میں نفسیات کے استاد کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ساتھ پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا انہوں نے نفسیات کے تناظر میں تجزیہ کیا ہے۔ ان کا یہ مضمون اپنے عنوان کے حوالے سے خاصا منفرد ہے جس میں کئی طرح کے گوشے سامنے آئے ہیں۔ اس مضمون کا پہلا حصہ دسمبر2002ء میں لکھا گیا جبکہ دوسرا فروری2009ء میں تحریر ہوا جس کو امجد طفیل نے ”تجزیات” کے صفحات کے لیے بطور خاص پیش کیا ہے۔ (مدیر)

    Aug 22, 2010 | 3 comments | یہ تحریر پڑھیے

  • شہر لاہور کے دروازے

    شاہ عالمی گیٹ : تاریخ اور ثقافت

    شاہ عالمی دروازہ  :  تاریخ و ثقافت
    شیراز حسن

    تقسیم ہند
    فضا دھوئیں سے آلود تھی…. گلی کوچوں میں ہُو کا عالم تھا اور لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے تھے…. اور شاہ عالمی سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے…. اندرون شہر جہاں کبھی خوشبوﺅں سے گلیاں مہکتی اور چہروں پر مسکان لئے افراد خوشیوں کے [...]

    Aug 15, 2010 | 3 comments | یہ تحریر پڑھیے