جب ان منافیقین سے رسول نے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے بہانہ بنایا کہ ہم اتو یہ سمجھے تھے کہ یہ عورتیں لونڈیاں ہیں. اس آیت میں الله نے ایک تدبیر بتایی کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو ‘جلباب’ اوڑھ لیا کریں تا کہ وہ پہچانی جا سکیں اور منافیقین کہ پاس انہیں تنگ کرنے کا کوئی بہانہ نہ رہے. یہاں یہ بات واضح ہے کہ یہ آیت صرف ایک خاص وقت اور موقع کے لئے تھی اور یہ حکم تمام زمانوں کے لئے نہیں تھا.
Oct 15, 2010 | 6 comments | یہ تحریر پڑھیے
اسلامی شدت پسندی کے اس مرکز کو اسکے موجودہ قرون وسطی کی ریاستی ڈھانچے سے بدل کر ایک پارلیمانی اور جمہوری ماڈل پر لانے کی ضرورت ہے. اگر مغربی ممالک سنجیدگی سے اس مسلے کا حل چاہتے ہیں تو انکو پاکستان پر اندھی نقطہ چینی چھوڑ کر سعودی عرب کی طرف نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے اور اسکو اس سیاسی اور ریاستی تبدیلی کے عمل میں مدد کرنی چاہیے.سعودی پادشاہت کو محض علامتی بنا دینا چاہیے اور ریاستی اقتدار ایک نمائندہ قانون ساز جماعت کو منتقل کر دینا چاہیے. شاید ملایشیا کا پارلیمانی ماڈل یہاں بھی چل سکے. یہ تاثر کہ اگر سعود گھرانے سے اقتدار چھینا گیا تو ایک مزید بنیاد پرست اسلامی نظام سامنے آ جاۓ گا بلکل غلط اور بے بنیاد ہے.
Oct 08, 2010 | 15 comments | یہ تحریر پڑھیے
سیکولر ازم کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں ہر شہری کے ساتھ بلا امتیاز مذہب و ملت یکساں سلوک کیا جائے گا۔
Oct 01, 2010 | 7 comments | یہ تحریر پڑھیے
سیکولرازم اور لادینی نظام
منوبھائی
محض اتفاق کی بات بھی ہوسکتی ہے اور اسے وقت اور عہد کا لازمی سیاسی تقاضا بھی قرار دیا جاسکتا ہے کہ اگر پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح اپنے نوزائیدہ ملک کو ایک ایسا معاشرہ فراہم کرنا چاہتے تھے جن کے معاملات سیاست، معیشت اور معاشرت مذہبی امتیازات اور [...]
Sep 23, 2010 | 7 comments | یہ تحریر پڑھیے
برطانیہ میں پلنے والی 25 سالہ بشریٰ کو یہ اشتیاق ہوا کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں کچھ زیادہ جانے، لیکن اسے نہ اردو آتی تھی نہ عربی۔ سو اس مقصد کے لیے اس نے ایک اسلامک انسٹی ٹیوٹ میںداخلہ لے لیا۔ اس نے بتایا کہ زبان ایک بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن نصاب بھی بہت مشکل تھا۔ کیونکہ یہ ان لوگوں نے مرتب کیا تھا جو کہ اسلام کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔ جب میں نے انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا تو مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں اپنا یہ شوق پورا نہ کر سکوں۔ بالآخر میں نے وہ انسٹی ٹیوٹ چھوڑ دیا۔
Sep 22, 2010 | 1 comment | یہ تحریر پڑھیے
بُرے صوفی
روزنامہ ڈان کے لئے قلندر بخش میمن کی تحریر
انگریزی سے اردو ترجمہ : علی محسن
عمومی رائے یہ ہے کہ صوفی ازم وہابیت کا متضادہے۔ غلط ۔دراصل صوفی ازم اور وہابیت میں ایک اہم قدرمشترک ہے۔ یہ دونوں نظام کو برقرار رکھنے والے نظریات ہیں۔ پاکستان میں صوفی ازم عدم مساوات اور افلاس جیسی [...]
Aug 29, 2010 | 7 comments | یہ تحریر پڑھیے
اپنی ذات کا متلاشی ادیب….
ترکی کے نوبل انعام یافتہ ادیب اورحان پاموک کا زندگی نامہ
شیراز حسن
اورحان پاموک کہتے ہیں کہ ”بہت چھوٹی عمر سے ہی میرے ذہن میں ایک خیال نے جنم لیا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں میری دنیا اس سے بڑھ کر ہے۔ استنبول کی گلیوں میں کہیں، میرے گھر سے ملتا [...]
Aug 27, 2010 | 1 comment | یہ تحریر پڑھیے
کتابیں اور متعدد تحقیقی مقالہ جات شائع ہو چکے ہیں۔ آج کل وہ ایم اے او کالج لاہور میں نفسیات کے استاد کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ساتھ پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا انہوں نے نفسیات کے تناظر میں تجزیہ کیا ہے۔ ان کا یہ مضمون اپنے عنوان کے حوالے سے خاصا منفرد ہے جس میں کئی طرح کے گوشے سامنے آئے ہیں۔ اس مضمون کا پہلا حصہ دسمبر2002ء میں لکھا گیا جبکہ دوسرا فروری2009ء میں تحریر ہوا جس کو امجد طفیل نے ”تجزیات” کے صفحات کے لیے بطور خاص پیش کیا ہے۔ (مدیر)
Aug 22, 2010 | 3 comments | یہ تحریر پڑھیے
شاہ عالمی دروازہ : تاریخ و ثقافت
شیراز حسن
تقسیم ہند
فضا دھوئیں سے آلود تھی…. گلی کوچوں میں ہُو کا عالم تھا اور لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے تھے…. اور شاہ عالمی سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے…. اندرون شہر جہاں کبھی خوشبوﺅں سے گلیاں مہکتی اور چہروں پر مسکان لئے افراد خوشیوں کے [...]
Aug 15, 2010 | 3 comments | یہ تحریر پڑھیے